فهرس الكتاب

الصفحة 163 من 452

''تمام موجودہ قوانین، اسلامی احکامات کے مطابق یقینی بنائے جائیں گے جس طرح قرآن و سنت میں بیان کیے گئے ہیں اور آئین کے اس حصہ میں ان کا تذکرہ ''اسلامی احکامات'' کے نام سے کیا جائے گا اور کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جوقرآن و سنت کے خلاف ہو''

آئین کے پندرھویں ترمیمی بل 1998ء میں لکھا ہوا ہے:

قرآن و سنت کی بالادستی اور فوقیت

قرآن کریم اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پاکستان کے اعلیٰ ترین قوانین ہیں۔

سندھ اسمبلی نے اس قانون کو پاس کرکے کیا ملکِ عزیز کے اعلیٰ ترین قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے؟ کیا اس طرح کی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہے؟

قرآن و سنت ، صحابہ کرام کے عمل اور اجماع سے چھوٹی عمر کی لڑکی کا نکاح ثابت ہے اور اس کو غلط قرار دینا مغربی افکار کے اثرات کا نتیجہ ہے۔

نا بالغ لڑکیوں کا نکاح قرآن کریم کی روشنی میں

(1) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[وَاڿ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ ۙ وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ ]

''تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے نا امید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو'' [الطلاق:4]

اس آیت کے الفاظ [وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ] بڑے اہم ہیں، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ جن عورتوں کو

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت