فهرس الكتاب

الصفحة 319 من 452

پیشوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر فائز ہوجائے گا جوکہ دین میں تبدیلی کے مترادف ہے ۔ ''

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

"ليس لأحد أن يلزم أحدًا بقبول قول غيره ولو كان حاكمًا." [1]

'' کسی کیلئے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ کسی غیر کے قول کا کسی کو پابند بنائے چاہے وہ حاکم وقت ہی کیوں نہ ہو ''

پانچواں اصول : رائے کے اظہار سے کسی کو نیچا دکھانا مقصو د نہ ہو بلکہ مخلصانہ نصیحت مراد ہو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثًا قُلْنَا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ". [2]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے ! ہم نے عرض کیا کہ کس چیز کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی ، اس کی کتاب کی ، اس کے رسول کی ، مسلمانوں کے ائمہ کی اور تمام مسلمانوں کی ''۔

اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ یہ حدیث ان چند احادیث میں سے ہے جس پر فقہ کا مدار ہے ۔

محمد بن اسلم الطوسی فرماتے ہیں یہ حدیث دین کا ایک چوتھائی حصہ ہے ۔

عامۃ المسلمین کو نصیحت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنےبھائی کے لئے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے ، اور جس چیز کو خود ناپسند سمجھتا ہے اپنے بھائی کیلئے بھی اسے ناپسند سمجھے ، ان سے شفقت کا برتاؤ کرے ، چھوٹے پر شفقت اور بڑے کا احترام کرے ۔ ان کی خوشی پر خوش ہو اور ان کے غم پر غمگین ہو ، اگرچہ اس سے اسے دنیاوی معاملات میں کوئی گزند بھی پہنچے تو اپنے بھائی کی بھلائی کی خاطر اسے برداشت کرے ۔

ابن علیہ ابوبکر المزنی سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

'' ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فوقیت اور فضیلیت ملی وہ نماز ، روزے کی وجہ

[2] صحیح مسلم: کتاب الایمان ، باب بیان أن الدین النصیحۃ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت