پیشوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر فائز ہوجائے گا جوکہ دین میں تبدیلی کے مترادف ہے ۔ ''
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
"ليس لأحد أن يلزم أحدًا بقبول قول غيره ولو كان حاكمًا." [1]
'' کسی کیلئے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ کسی غیر کے قول کا کسی کو پابند بنائے چاہے وہ حاکم وقت ہی کیوں نہ ہو ''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثًا قُلْنَا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ". [2]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے ! ہم نے عرض کیا کہ کس چیز کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی ، اس کی کتاب کی ، اس کے رسول کی ، مسلمانوں کے ائمہ کی اور تمام مسلمانوں کی ''۔
اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ یہ حدیث ان چند احادیث میں سے ہے جس پر فقہ کا مدار ہے ۔
محمد بن اسلم الطوسی فرماتے ہیں یہ حدیث دین کا ایک چوتھائی حصہ ہے ۔
عامۃ المسلمین کو نصیحت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنےبھائی کے لئے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے ، اور جس چیز کو خود ناپسند سمجھتا ہے اپنے بھائی کیلئے بھی اسے ناپسند سمجھے ، ان سے شفقت کا برتاؤ کرے ، چھوٹے پر شفقت اور بڑے کا احترام کرے ۔ ان کی خوشی پر خوش ہو اور ان کے غم پر غمگین ہو ، اگرچہ اس سے اسے دنیاوی معاملات میں کوئی گزند بھی پہنچے تو اپنے بھائی کی بھلائی کی خاطر اسے برداشت کرے ۔
ابن علیہ ابوبکر المزنی سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
'' ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فوقیت اور فضیلیت ملی وہ نماز ، روزے کی وجہ
[2] صحیح مسلم: کتاب الایمان ، باب بیان أن الدین النصیحۃ