فهرس الكتاب

الصفحة 303 من 452

آزادئ اظہار رائےکے شرعی اصول وضوابط

خالدحسین گورایہ [1]

اہل عقل وفہم کے ہاں ایک مسلّمہ امر ہے کہ علماء ، حکماء ، مفکرین جب بھی '' آزادئ اظہار رائے'' پر لب کشائی کرتے ہیں تو سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اظہار رائے کی یقینًا کوئی حد یا باؤنڈری ہونی لازمی ہے ، تاکہ فتنہ وفساد اور معاشرتی عدم توازن کے نظام کو کنٹرول کیا جاسکے ۔ ہاں اس کی قید کے پیمانے ہر ایک کے ہاں مختلف ہیں بعض لوگ اس پر عرفِ عام ، یا معاشرتی اقدار کی روک لگاتے ہیں، بعض اسے آئین وقانون سے مقید کردیتے ہیں ،اور بعض دیگرے یہ کہتے ہیں کہ جہاں دوسرے کے مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے ، اس کی دل آزاری ہوتی ہے وہاں آپ کی آزادی ختم ہوجاتی ہے ۔ بعض نے اخلاقی فساد وبگاڑ کو آزادئ رائے کی حد بندی بتایا ہے ۔ الغرض دنیا کا کوئی بھی ذی عقل انسان اس حقیقت کا انکاری نہیں ہے کہ آزادئ رائے کو لازما ًکسی حد وقید میں رکھناضروری ہے ۔ رائے میں مادر پدر آزادی کا مطلب محض شر وفساد کی آبیاری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت