محمد یوسف نعیم
میرا خیال ہے کہ ثقافت کو اگر ہم طرز معاشرت کے الفاظ سے تعبیر کریں تو بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی اور طرز معاشرت کا تعلق انسا ن کے اندر سے بھی ہے اور باہر سے بھی یعنی ظاہر و باطن سےاس بات سے ہی یہ مترشح ہوتا ہے کہ عمل اور عقیدہ طرزمعاشرت کا اہم اور بنیادی عنصر ہیں۔ عقیدے کی صحت اور خرابی عمل کی صحت اور خرابی کا باعث ہوتی ہے۔ عربوں کے طرز معاشرت کا جو حال مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں منظوم کیا ہے۔ وہ عربی ثقافت کو سمجھنے میں ہماری مدد کرے گا۔
وہ ایک جگہ لکھتے ہیں
کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا
اور عبادت کا معاملہ آتا تھا تو ہر قبیلے کا علیحدہ علیحدہ ایک بت تھا اور ان کے طرز فکر میں جمود تھا