حافظ محمد یونس اثری [1]
تخلیق انسانی کئی مراحل طے کرکے منظر عام پر آتی ہےاور پھر تخلیق (پیدائش) کے بعد بھی اس کی زندگی کئی مراحل میں منقسم ہوتی ہے۔ مثلًا بچپن ،لڑکپن ،جوانی اور بڑھاپا۔ انسانی زندگی کے یہ مراحل اس قابل ہیں کہ انہیں بغور سمجھا جائے اور ان مراحل کے خصوصی اوصاف اور صلاحیتوں کے مطابق ہی ہر مرحلے کو گزارا جائے۔اس لئے کہ دین اسلام نے مکمل طور پر انہی مراحل کے مطابق انسان کو شریعت کا پابند بنایاہے۔مثلًا ایک بچہ جو ابھی سنِ شعور کو نہیں پہنچا وہ شرعی احکامات کا مکلف نہیں، بہرحال ان مراحل میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل جوانی کی عمر ہے ، جس کی اہمیت کا کوئی ذی شعور انکار نہیں