فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
حق مہر کم کرکے نکاح کرنا چاہتا ہو تو ایسے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس بات کے کہ وہ لڑکیوں کے حق مہر کے معاملہ میں انصاف سے کام لیں اور اگر انصاف نہ کر سکیں تو ان یتیم لڑکیوں کو چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: لوگوں نے بعد میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت میں یہ حکم صادر فرمایا کہ جب یتیم لڑکیا ں مال ودولت اور حسن و جمال والی ہوتی ہیں تو مہر میں کمی کرکے ان سےنکاح کرنا پسند کرتے ہیں اور اگر لڑکی مال ودولت والی نہیں ہے تو اس کو چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کرتے ہیں ، یہ کیسی بات ہوئی؟ ان کو چاہیے کہ جب مال و دولت اور حسن و جمال کے نہ ہونے پران لڑکیوں کو چھوڑ دیتے ہیں اسی طرح اس وقت بھی ان کو چھوڑ دیں جب وہ مالدار اور خوبصورت ہوں ، البتہ اگر انصاف کریں اور پورا حق مہر ادا کریں تو پھر نکاح کرسکتے ہیں۔ [1]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
"فیہ دلالۃ علی تزویج الولی غیر الاب التی دون البلوغ بکرا کانت او ثیبا، لان حقیقۃ الیتیمۃ من کانت دون البلوغ ولا اب لھا ۔ وقد اذن فی تزویجھا بشرط ان لا یبخس من صداقھا فیحتاج من منع ذالک الی دلیل قوی" [2]
''اس حدیث سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ اگر لڑکی کا ولی والد کے علاوہ کوئی اور ہے تو وہ نابالغ لڑکی کا نکاح کروا سکتا ہے چاہے لڑکی کنواری ہو یا ثیبہ (جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو یا مطلقہ ہو، مطلب کہ وہ اب کنواری نہ ہو) کیونکہ حقیقتًا یتیم وہی لڑکی ہے جو نابالغ ہو اور اس کا والد بھی نہ ہو، ایسی لڑکی سے شادی کی، اس صورت میں اجازت دی گئی ہے کہ حق مہر میں سے کچھ بھی کم نہ کیا جائے ، جو بھی اس شادی سے منع کرتا ہے اسے اس سے بھی زیادہ مضبوط دلیل پیش کرنے کی ضرورت ہے''۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
"و فیہ جواز تزویج الیتامی قبل البلوغ لانھن بعد البلوغ لا یقال لھن یتیمات"
[2] فتح الباری: 10/348