فهرس الكتاب

الصفحة 171 من 452

طاقت نہیں ہے وہ روزے رکھے اس سے اس کی نفسانی خواہشات کم ہو جائیں گی ۔۔۔۔ الایامی:اَیّـمکی جمع ہے ۔اَیّـم اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کا خاوند نہ ہو اور اس مرد کو کہا جاتا ہے جس کی بیوی نہ ہو ، اب چاہے شادی کے بعد ایک دوسرے سے الگ ہو گئے ہوں یا شادی ہی نہ کی ہو ۔ علامہ جوہری نے انہیں اہل لغت کے حوالہ سے بیان کیا ہے''۔

علامہ کاسانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

''و الأ یّـم اسم لانثیٰ من بنات آدم علیہ الصلاۃ و السلام ، کبیرۃ کانت او صغیرۃ لا زوج لھا" [1] "

''اَیّم ، نام ہے آدم علیہ السلام کی بنات میں سے، چاہے بڑی ہو یا چھوٹی پر اس کا خاوند نہ ہو۔''

قاضی عیاض رحمہ اللہ (وفات: 544ھ) ایم کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''اہل لغت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ''اَیّم''کا اطلاق ہر ا س عورت پر ہوگا جس کا خاوند نہ ہو پھر چاہے چھوٹی ہو یا بڑی ، چاہے بیوہ ہو یا کنواری یا مطلقہ ۔ [2]

علامہ ابن العربی (وفات: 543ھ) اَیّم کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''جس کا خاوند نہ ہو چاہے کنواری ہو یا بیوہ (مطلقہ) بالغ ہو یا نابالغ'' [3]

معلوم ہوا کہ مرد یا عورت چھوٹے ہوں یا بڑے، کنوارے ہوں یا بیوہ (مطلقہ) بالغ ہوں یا نابالغ ، مذکورہ بالا حدیث ان کے نکاح کے درست ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

علامہ ماوردی شافعی کہتے ہیں:

"واستدلواعلی جواز تزویجھا قبل البلوغ بعموم قولہ تعالیٰ: وانکحوا الأیّامی منکم" [4]

''علماء نے ،اللہ تعالیٰ کے فرمان: وانکحوا لایامیٰ منکم سے استدلال کیا ہے کہ بلوغت سے قبل بھی شادی ہوسکتی ہے''۔

[2] اکمال العلم: 4/564

[3] عارضۃ الاحوذی: 5/25

[4] الحاوی الکبیر: 9/66

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت