فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
عہد رسالت کے حوالے سے متعدد اقسام کے کھیل کود اور مختلف تفریحات کا پتہ چلتا ہے اور ان کا ذکر بہت زیادہ روایات میں ملتا ہے ان میں سے چند معروف کا ذکر سطور ذیل میں کیا جائے گا ان میں سے کچھ جنگی کھیل ہیں جو صرف مرد حضرات کھیلتے تھے بچوں کے لیے الگ مردانہ قسم کے کھیل کود تھے بعض روایات میں لڑکوں اور لڑکیوں کے مشترکہ کھیلوں کا بھی ذکر ملتا ہے اسی طرح معصوم بچیوں اور لڑکیوں کے خاص نسوانی کھیلوں کا ذکر بہت دلچسپ انداز میں ملتا ہے اسی طرح خواتین اور عورتوں کے بعض تفریحی مشاغل کا پتہ چلتا ہے ان میں سے معروف کا ذکر درج ذیل ہے:
فوجی کھیل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں مختلف طبقات و افراد کو تیر اندازی، شہسواری ، تلوار بازی ، نیزہ بازی، حربہ انگیزی او ر دوسرے فوجی کھیلوں کی ہمت افزائی کی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان کے حصول اور کمال پر ترغیب بھی دلائی۔ بالعموم یہ تفاصیل'' کتاب الجہادوالسیر'' کے ابواب میں ملتی ہیں جیسا کہ صحیح بخاری کا '' باب التحریض علی القتال'' ''باب السبق من الخیل''،''باب التحریض علی الرمی'' وغیرہ بلکہ عید الاضحی کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ میں حبشی حضرات کے حربی کمالات دیکھنا ۔ اس واقعہ سے اور اس کی شروح سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مستقل قسم کے کھیل تھے صرف اسی موقع پر نہیں پیش کیے بلکہ ہر عید پر ان کا اہتمام کیا جاتا تھا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس پر مفصل بحث کی ہے۔ اور اصل بات یہ ہے کہ کھیلنے والوں کے لیے اجازت نبوی بلکہ منشائے نبوی بھی حاصل تھا۔یعنی یہ کھیلنا جائز اور مباح بلکہ ان کا دیکھنا اور دکھانا بھی جائز اور مباح ہے اس قسم کے کھیلوں کی عصری مثالیں 6 ستمبر میں یوم فضائیہ پر فضائی مظاہرے اور فوجی کمالات کا تعلق اسی نوعیت سے ہے جنہیں دیکھا جا سکتا ہے ۔
نشانہ بازی: نشانہ بازی خواہ تیر کے ذریعہ ہو یا نیزہ، بندوق اور پستول یا کسی اور ہتھیار کے ذریعہ ہو۔ اس کے سیکھنے کو باعثِ اجر وثواب قرار دیاگیا ہے ۔یوں بھی یہ کھیل انسان کے ذاتی دفاع کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ اگر جسم کی پھرتی، اعصاب کی مضبوطی اور نظر کی تیزی کا ذریعہ ہے۔ وہیں یہ خاص حالات میں دشمنوں سے مقابلہ آرائی کے کام آتا ہے۔ قرآن کریم میں باضابطہ مسلمانوں کو