فهرس الكتاب

الصفحة 420 من 452

سے بتایا گیاکہ نکاح میں تطہیر نسل ہے اس وجہ سے زنا اور نکاح کے نام پر زنا کی مختلف صورتیں شرعًا حرام قرار دی گئی ارشاد باری تعالیٰ

[ وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا 32؀ ] [الاسراء:32]

یعنی اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ کیونکہ وہ بے حیائی کا کام ہے اور برا راستہ ہے۔اسی طرح نکاح شغار سے بھی منع فرمایا وٹے سٹے کا نکاح جبکہ ان کے نکاح کے درمیان حق مہر بھی نہ ہو۔ نیز نکاح متعہ، نکاح مسیار بھی حرام ہیں۔

حدیث میں ہے کہ نکاح متعہ حرام ہے:

'' عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن متعة النساء يوم خيبر'' [1]

یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ ایگریمنٹ نکاح سے منع فرمایا۔

اس میں تحفظ ہے محترم رشتوں کا اس وجہ سے سورۃ نساء کی آیت

[ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ۡ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ۡ وَحَلَاۗىِٕلُ اَبْنَاۗىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ ۙ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِـيْمًا 23؀ۙ وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَامَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ] [نساء:23]

یعنی تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمہاری گود میں پرورش پارہی ہوں بشرطیکہ تم اپنی بیویوں سے صحبت کرچکے ہو ۔ اور اگر ابھی تک صحبت نہیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت