یعنی اور اگر تمہیں زوجین کے باہمی تعلقات بگڑ جانے کا خدشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کر لو ۔ اگر وہ دونوں صلح چاہتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان میں موافقت پیدا کردے گا۔ اللہ تعالیٰ یقینا سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔
یعنی دونوں فریق کی طرف سے بااثر لوگوں نے معاملہ سلجھانے کی کوشش کی لیکن بالآخر معاملہ طلاق پر ہی منتج ہوا۔
شرعًا اگر نباہ کی کوئی صورت نہ ہوتو طلاق کےاستعمال کو آخری حل کے طور پر کیا جاسکتا ہے،ارشاد باری تعالیٰ:
[ وَاِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيْمًا 130] (النساء:130)
یعنی اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا اللہ تعالیٰ وسعت والا حکمت والا ہے۔
یعنی اگر ان کے درمیان جدائی (طلاق ) واقع ہوچکی ہے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کردےگا۔
طلاق دینے کا شرعی طریقہ:
جہاں تک طلاق دینے کا تعلق ہے،اس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ حالت طہر میں طلاق دی جائے ایسا طہر جس میں ازدواجی معاملات نہ ہوئے ہو۔ ایک وقت میں ایک ہی طلاق دی جائے۔اور طلاق دیتے وقت دو آدمیوں کو گواہ بنالیا جائے، اس کی دلیل سورہ طلاق میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،:
[يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحْصُواالْعِدَّةَ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۭ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ۭ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ ۭ لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا A] [الطلاق: 1]
یعنی:اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت کے شروع میں طلا ق دو اور عدت کا شمار رکھو اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو ۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) انکے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں ہاں اگر وہ صریح