فهرس الكتاب

الصفحة 133 من 333

-اس بات کا احتمال ہے، کہ [رجم] کے ساتھ [کوڑے لگانے کا حکم] راویان کی نظر میں اس قدر واضح تھا، کہ انھوں نے اس کے ذکر کی ضرورت ہی نہ سمجھی۔ [1]

-امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے متعدد سال بعد شادی شدہ عورت [شراحہ] کو سزا دیتے ہوئے دونوں سزاؤں کو جمع کیا۔ انھوں نے جمعرات کے دن اسے کوڑے لگائے اور فرمایا: [میں نے اسے کتاب اللہ کے مطابق کوڑے لگائے ہیں] [2] جمعتہ المبارک کے دن سنگسار کیا اور فرمایا: '' [میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق رجم کیا ہے] '' [3]

علامہ شوکانی اس واقعہ کے بارے میں لکھتے ہیں:

''ان ایسی (عظیم) شخصیت اور وہاں موجود دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم پر [رجم اور کوڑے جمع کرنے] کو منسوخ کرنے والی دلیل کیسے مخفی رہی؟'' [4] وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

۷: حدیث شریف میں [غیر شادی شدہ] اور [شادی شدہ] کے متعلق بیان کردہ احکام مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں ہیں۔ [5]

۸: شادی شدہ بدکار لوگوں کو رجم کرنے پر امت کا اجماع ہے۔ علامہ ابن قدامہ لکھتے ہیں:

''فِيْ وَجُوْبِ الرَّجْمِ عَلَی الزَّانِيْ الْمُحْصِنِ، رَجُلًا کَانَ أَوِ امْرَأَۃً۔ وَہٰذَا قَوْلُ عَامَّۃِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنَ الصَّحَابَۃِ،

[2] ملاحظہ ہو: المفہم ۵/۸۴؛ والمغني ۱۲/۳۱۳۔ ۳۱۴؛ وشرح النووي ۱۱/۱۸۹؛ وفتح الباري ۱۲/۱۱۹۔

[3] ملاحظہ ہو: نیل الأوطار ۷/۲۵۵۔

[4] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۷/۲۵۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت