فهرس الكتاب

الصفحة 186 من 333

أَہْلِکَ، فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِہٖ مَا شِئْتَ۔'' [1]

''مگر اسے (یعنی خیانت کرنے والے کو) روزِ قیامت اُس (یعنی مجاہد) کے لیے کھڑا کیا جائے گا اور اس (یعنی مجاہد) سے کہا جائے گا:

''اس نے تمھارے اہل میں تمھاری نیابت کی (اور خیانت کا ارتکاب کیا) ، سو تم اس کی نیکیوں سے جو چاہو، لے لو۔''

سنن النسائی میں ہے:

''ثُمَّ الْتَفَتَ النَّبِيُّ صلي اللّٰه عليه وسلم إِلٰی أَصْحَابِہِ، فَقَالَ:

''مَا ظَنُّکُمْ تُرَوْنَ، یَدَعُ لَہُ مِنْ حَسَنَاتِہٖ شَیْئًا؟'' [2]

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

''تمھارا کیا گمان ہے، وہ اس کی نیکیوں میں سے کوئی چیز اس کے لیے رہنے دے گا؟''

اس حدیث کے حوالے سے تین باتیں:

۱: [حُرْمَۃُ نِسَائِ الْمُجَاہِدِیْنَ عَلَی الْقَاعِدِیْنِ کَحُرْمَۃِ أُمَّہَاتِہِمْ]

[مجاہدین کی خواتین کی حُرمت [ان کے پیچھے] رہنے والوں پر اپنی ماؤں کی حُرمت جیسی ہے]

اس کی شرح میں امام نووی لکھتے ہیں:

[2] المرجع السابق، رقم الحدیث ۱۴۰۔ (۱۸۹۷) ، ۳/۱۵۰۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت