فهرس الكتاب

الصفحة 175 من 333

الزنا] [1] کی گواہی کو بھی [زنا کے متعلق] ناقابلِ اعتبار ٹھہرایا ہے۔ علامہ خطابی لکھتے ہیں:

'' (امام) مالک تہمت کی بنا پر [2] [ولد الزنا] کی [زنا کے متعلق] شہادت کو خصوصی طور پر ناجائز قرار دیتے تھے۔' ' [3]

زنا کی اخروی سزائیں

بدکار لوگ، اگر دنیا میں عذاب سے بچ جائیں اور توبہ کیے بغیر مرجائیں، تو ان کے لیے آخرت میں متعدد اقسام کے انتہائی دردناک عذاب ہیں۔ مختلف اقسام کے بدکاروں کو عمومی عذاب کے ساتھ ملنے والے خصوصی عذابوں کو احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں اس سلسلے میں قدرے تفصیل ملاحظہ فرمائیے:

ا: عمومی عذاب:

اس بارے میں ذیل میں دو حدیثیں ملاحظہ فرمائیے:

۱: امام بخاری نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ رَجُلَیْنِ أَتَیَانِيْ…

قَالَا: ''انْطَِلقْ۔''

فَانْطَلَقْنَا إِلٰی ثَقْبٍ مِثْلَ التَنُّوْرِ، أَعْلَاہُ ضَیِّقٌ وَّأَسْفَلُہُ وَاسِعٌ، یَتَوَقَّدُ تَحْتَہُ نَارٌ۔ فَإِذَا اقْتَرَبَ اِرْتَفَعُوْا، حَتّٰی کَادَ أَنْ یَّخْرُجُوْا۔ فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوْا فِیْہَا، وَفِیْہَا رِجَالٌ وَّنِسَائٌ عُرَاۃٌ۔

[2] سورۃ الحجرات / جزء من الآیۃ ۶۔

[3] دیکھئے: نیل الأوطار ۹/۲۰۳۔

[4] سنن أبي داود ۱۰/۷۔

[5] منتقی الأخبار ۹/۲۰۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت