فهرس الكتاب
ان گناہوں پر آمادہ کرنے کے لیے ان کے ہاں کوئی قوی سبب یا حاجت نہیں ہوتی، جیسی کہ دوسرے لوگوں میں ہوتی ہے۔
بوڑھے شخص کو زنا کی دعوت دینے والا کوئی سبب یا ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں نکاح کی رغبت ضعیف، عقل پختہ اور اپنی عمر کے کنارے پر پہنچنے کی بنا پر، اس کی موت کا وقت قریب ہوتا ہے… [1]
امام طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعًا روایت نقل کی ہے، کہ انھوں [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ] نے ارشاد فرمایا:
''مَثَلُ الَّذِيْ یَجْلِسُ عَلٰی فِرَاشِ الْمُغِیْبَۃِ مَثَلُ الَّذِيْ یَنْہَشُہٗ أَسْوَدُ مِنْ أَسَاوِیْدَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔'' [2]
''غائب شخص کی اہلیہ کے بستر پر بیٹھنے والے شخص کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جسے روزِ قیامت کے اژدھاؤں میں سے ایک اژدھا ڈسے گا۔''
اس حدیث سے مراد یہ ہے، کہ ایسی حرکت کرنے والے کو دوزخ کے اژدھاؤں میں سے ایک اژدھا ڈسے گا۔ أ [3]
د: مجاہدین کے گھر والوں میں خیانت کی سزا:
امام مسلم نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انھوں نے
[2] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ۱۲/۳۶۸۔