فهرس الكتاب

الصفحة 78 من 333

ان دلائل کے حوالے سے پانچ باتیں:

۱: [زنا سے دور رہنا] ان چھ بنیادی اور اہم باتوں میں سے ایک ہے، جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا، کہ وہ ہجرت کرکے آنے والی ایمان دار خواتین سے ان کی پابندی کرنے پر بیعت لیں۔

۲: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں کی پابندی کا عہد صرف اُنھی عورتوں سے نہ لیا، بلکہ دیگر خواتین سے بھی ان کی پابندی کا عہد لیتے تھے۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

'' وَقَدْ کَانَ النَّبِيُّ صلي اللّٰه عليه وسلم یَتَعَاہَدُ النِّسَائَ بِہٰذِہِ الْبَیْعَۃِ یَوْمَ الْعِیْدِ۔'' [1]

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بیعت (میں مذکورہ باتوں کی پابندی) کا عہد روزِ عید خواتین سے لیا کرتے تھے۔''

۳: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے علاوہ مردوں سے بھی انہی باتوں کا عہد لیا۔

۴: انھی چھ باتوں کی پابندی کی اہمیت کے پیش نظر علامہ قرطبی نے انھیں [أالنَّھْيِ فِيْ الدِّیْنِ] [2] [دین میں نہی کے ارکان] کا نام دیا ہے۔

سید قطب انہی چھ باتوں کے متعلق لکھتے ہیں:

''ھٰذِہِ الْأُسَسُ ہِيَ الْمُقَوِّمَاتُ الْکُبْرٰی لِلْعَقِیْدَۃِ، کَمَا أَ نَّہَا مُقَوِّمَاتُ الْحَیَاۃِ الْاِجْتِمَاعِیَّۃِ الْجَدِیْدَۃِ۔'' [3]

''یہ بنیادیں ہی عقیدہ کی مقومات کبرٰی [4] ہیں اور اسی طرح نئی اجتماعی زندگی [5] کے مقومات ہیں۔''

[2] صحیح البخاري، کتاب الإیمان، باب جزء من رقم الحدیث ۱۸، ۱/۶۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت