فهرس الكتاب

الصفحة 139 من 333

علامہ ابن عبد البر رقم طراز ہیں:

''حَدُّ الزَّانِيْ حَقٌّ مِنْ حُقُوْقِ اللّٰہِ، وَعَلَی الْحَاکِمِ إِقَامَتُہٗ۔'' [1]

[زانی پر حد [کا قائم کرنا] اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے [ایک] حق ہے اور (مسلمان) حاکم کی ذمہ داری ہے، کہ اسے قائم کرے۔]

علامہ نووی شرحِ حدیث میں لکھتے ہیں:

''فِيْ ہٰذَا دَلِیْلٌ لِّوُجُوْبِ حَدِّ الزِّنَا عَلَی الْکَافِرِ۔'' [2]

''اس میں کافر پر زنا کی حد (قائم کرنے) کے وجوب کی دلیل ہے۔''

حافظ ابن حجر حدیث کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''وَجُوْبُ الْحَدِّ عَلَی الْکَافِرِ الذِّمِّيِّ إِذَا زَنٰی، وَہُوَ قَوْلُ الْجَمْہُوْرِ۔'' [3]

''ذمی کافر پر حد کا وجوب، جب وہ زنا کرے اور یہ جمہور کا قول ہے۔''

مجد الدین ابوالبرکات ابن تیمیہ نے اپنی عظیم الشان کتاب [منتقی الأخبار] میں ایک باب کا درجِ ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ رَجْمُ الْمُحْصِنِ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ، وَأَنَّ الْإِسْلَامَ لَیْسَ بِشَرْطٍ فِي الْإِحْصَانِ] [4]

[اہلِ کتاب میں سے شادی شدہ کو رجم کرنے اور اسلام کے [احصان] کے لیے شرط نہ ہونے کے متعلق باب]

پھر انھوں نے اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے ساتھ دو اور حدیثیں

[2] المرجع السابق ۴/۵۹۰۔

[3] منقول از: فتح الباري ۱۲/۱۷۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت