فهرس الكتاب
ہے: یعنی ان کے لیے دنیا میں کوڑوں کی سزا اور آخرت میں دوزخ کی آگ ہے۔ [1]
ب: [اور ان ہی کے لیے بہت بڑا عذاب ہے] آیت شریفہ کے اس حصے کے متعلق دو باتیں خصوصی طور پر قابلِ توجہ ہیں:
ج: [جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے] : اللہ اکبر! وہ دن کیسا ہوگا! وہ وقت کس قدر ہیبت ناک ہوگا!
د: [اس دن انھیں اللہ تعالیٰ پورا پورا ٹھیک بدلہ دیں گے] : اللہ علیم و خبیر، جن سے رائی برابر کوئی چیز مخفی نہیں، جو سینوں کے چھپے ہوئے رازوں کو جاننے والے، جو ہوچکا اس سے خوب باخبر، جو ہوگا اس سے مکمل طور پر آگاہ، جب وہ تہمت طرازوں کو پاک دامن ایمان والی خواتین پر تہمت کی کرتوت کا پورا پورا ٹھیک بدلہ دیں گے، تو ایسے لوگ کیونکر ان کی شدید گرفت سے محفوظ رہ سکیں گے؟ {إِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ} [2]
۴: تیسری دلیل کے ضمن میں درج کردہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے تہمتِ زنا
[2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱۲/۱۸۱۔
[3] تفسیر الطبري ۱۸/۸۳۔ حافظ ابن کثیر نے بھی اسی رائے کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام ابوجعفر النحاس نے بھی اس کی یہی تفسیر بیان کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۳/۳۰۴؛ وتفسیر القرطبي ۲/۲۱) ۔