فهرس الكتاب
''ہر سال چودہ برس یا اس سے کم عمر کی امریکی لڑکیاں دس ہزار سے زیادہ بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔'' [1]
تبصرہ:
یہ صورت حال بیس سال قبل (۱۹۹۲ء میں) شائع ہونے والی کتاب کے مطابق تھی۔ اب حالات کیا ہیں؟ اُمید ہے کہ آئندہ صفحات میں منقول اقتباسات ان کا تصور کرنے میں ان شاء اللہ راہنمائی کریں گے۔
[کنبہ: روایتی (حیثیت) سے دوستی تک]
یہاں تین باتوں کی طرف اشارہ شاید مناسب ہو:
۱: ناجائز بچوں کی یہ بہت بڑی تعداد ان تمام کوششوں کے بعد ہے، جو مادہ منویہ کے ضائع کرنے اور حمل ضائع کرنے کی خاطر کی جاتی ہیں۔ لندن سے شائع ہونے والے اخبار [الشرق الأوسط] کی ۱۸ فروری ۱۹۷۹ء کی اشاعت میں ذکر کیا گیا: امریکہ میں ہر سال دس لاکھ سے زیادہ حمل گرانے کے واقعات ہوتے ہیں۔ (بحوالہ الأمان لبنان ۱۶ شوال ۱۳۹۹ھ ص ۳۶) [اس بارے میں مزید معلومات اس کتاب کے۲۸۶۔ ۲۸۹ ملاحظہ فرمائیے)
۲: مذکورہ بالا نقشہ دیکھ کر یہ خیال نہ کیا جائے، کہ گورے کالوں سے زیادہ پاکیزہ ہیں، کہ ان کے ہاں ناجائز بچوں کی شرح کم ہے۔ اس قلت کا شاید سبب یہ ہے، کہ وہ کالوں کی نسبت منع حمل کے اسباب و وسائل سے زیادہ آگاہ ہیں اور انھیں یہ چیزیں دوسروں کی نسبت زیادہ میسر ہیں۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔
۳: ۱۹۶۰ء سے کالوں کے مقابلے میں گوروں میں ناجائز بچوں کا تناسب کافی زیادہ ہے۔ مذکورہ بالا کتاب ہی میں ہے: