فهرس الكتاب

الصفحة 71 من 333

۱: {یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِہِمْ} [اپنی نگاہوں سے نیچے رکھیں] :

اللہ تعالیٰ نے نگاہ کی حفاظت کا حکم دیا، کیونکہ نگاہ دل کے فساد کی طرف دعوت دیتی ہے۔ اسی لیے شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیتے ہوئے، نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا، کیونکہ یہ زنا کے اسباب میں سے ہے۔ [1]

علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے نگاہ نیچے رکھنے کا حکم شرم گاہوں کی حفاظت کے حکم سے پہلے دیا، کیونکہ نگاہ زنا کی ایلچی اور بے حیائی کی قاصد ہے اور اس کی مصیبت زیادہ اور بہت سخت ہے۔ [2]

۲: ''فتنہ شہوت'' کا سب سے پہلا سبب اور مقدمہ نگاہ ڈالنا اور دیکھنا ہے اور آخری نتیجہ زنا ہے۔ ان دونوں کو صراحتًا ذکر کرکے حرام قرار دے دیا گیا۔ ان دونوں کے درمیانی حرام مقدمات مثلًا باتیں سننا، ہاتھ لگانا وغیرہ، یہ سب ضمنًا حرمت کے حکم میں آگئے۔ [3]

۳: {وَیَحْفَظُوا فُرُوْجَہُمْ } [اور وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں] :

اس سے مراد یہ ہے، کہ وہ شرم گاہوں کو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ باتوں: زنا، چھونے اور دیکھے جانے سے محفوظ رکھیں۔ [4]

مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں:

''شرم گاہوں کی حفاظت سے مراد یہ ہے، کہ نفس کی خواہش پوری کرنے کی جتنی ناجائز صورتیں ہیں، ان سے اپنی شرم گاہوں کو محفوظ رکھیں۔ اس میں زنا، لواطت اور دو عورتوں کا باہمی سحاق، جس سے شہوت پوری ہوجائے،

[2] في ظلال القرآن ۵/۳۲۱۔

[3] سورۃ النور / الآیتان ۳۰۔۳۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت