[پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( یعنی فاطمہ رضی اللہ عنہا ) سے آیت ( میں مذکورہ باتوں) پر بیعت لی۔]
اس روایت کے حوالے سے متعدد باتوں میں سے دو درج ذیل ہیں:
ا: معزز خاندان کی خواتین پر… اسلام سے پہلے بھی… زنا کا ذکر بھی گراں تھا۔ [1]
[2] المسند، رقم الحدیث ۲۵۱۷۵، ۴۲؍ ۹۵ ؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ، کتاب السیر، باب بیعۃ الأئمۃ وما یستحب لہم ، ذکر الأسباب التي کانت بیعۃ النساء علی المصطفی صلي الله عليه وسلم بہا ، رقم الحدیث ۴۵۵۴، ۱۰؍ ۴۱۸۔ الفاظِ حدیث صحیح ابن حبان کے ہیں۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۴۲ ؍۹۵؛ و ہامش الإحسان ۱۰؍۴۱۸) ۔ نیز ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد ۶؍۳۷۔