فهرس الكتاب

الصفحة 95 من 333

بات کو خوب اچھی طرح سمجھنے سمجھانے کی غرض سے انھی آیات کے حوالے سے ذیل میں توفیقِ الٰہی سے چھ باتیں درج کی جارہی ہیں:

۱: شیخ قاسمی لکھتے ہیں:

یہ آیات دلالت کرتی ہے، کہ بندے کی فلاح [شرم گاہ کی حفاظت] پر موقوف ہے۔ بلاشبہ اس کے بغیر اس کی فلاح کی کوئی سبیل نہیں۔

یہ آیت اپنے اندر تین باتیں سموئے ہوئے ہے:

-- اپنی شرم گاہ کی حفاظت نہ کرنے والا فلاح سے محروم رہا،

--حدودِ الٰہیہ سے تجاوز کرنے (کے بُرے وصف) کا مستحق قرار پایا

-- اور قابلِ ملامت ٹھہرایا گیا۔

شہوت کے پورا نہ کرنے پر مشقت برداشت کرنا، تو ان تین باتوں (کا مستحق ٹھہرائے جانے) سے آسان ہے۔ [1]

۲: علامہ الوسی لکھتے ہیں:

{وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَ۔ اِِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ} میں بیان کیا گیا ہے، کہ وہ [پاک دامن ہیں] ۔ ان کا سابقہ ذکر کردہ وصف {وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ} [لغو سے اعراض کرنا] بھی ان کے [پاک دامن] ہونے کا تقاضا کرتا ہے، لیکن [پاک دامنی] کی اہمیت اُجاگر کرنے کی خاطر اسے ذکر کیا گیا ہے۔ [2]

۳: شیخ ابن عاشور {فَاِِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ} [3] کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:

''اس کا مفہوم اس بات پر دلالت کرتا ہے، کہ ان (بیویوں اور لونڈیوں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت