فهرس الكتاب

الصفحة 7 من 125

بسم اللّٰه الرحمن الرحیم

حرف آغاز

فن تفسیر میں عربی زبان میں لکھی گئی مختلف النوع کتابوں میں تفسیر جلالین کو یہ شرف اور اعزاز حاصل ہے کہ بر صغیر سمیت دنیا کے بیشتر مدارس میں عرصہ دراز سے داخل نصاب چلی آرہی ہے۔ [1] گویا اس کتاب کو قبول عام حاصل ہے اور کتاب اللہ کی تفہیم و تشریح کے لیے دینی مدارس میں سب سے زیادہ اس کتاب کو اہمیت دی گئی ہے۔ذلک الفضل من اللہ۔

کتاب کے دونوں مصنف مسلکًا شافعی مگر عقیدتًا اشعری تھے۔چنانچہ اشاعرہ کے مذہب کے مطابق انھوں نے آیات صفات میں تاویل وتعطیل کی راہ اختیار کی ہے جو مذہب سلف کے سراسر خلاف ہے۔اس لیے اہل حدیث مدارس کے با شعور ذمہ داران ومدرسین اس ناحیے سے ہمیشہ فکر مند رہا کرتے تھے،کیوں کہ اگر کتاب کی تدریس پر مقرر استاد کتاب کی متعلقہ جگہوں پر عقیدہ کی اس لغزش کی جانب طلبہ کو متوجہ کرکے صحیح نقطہ نظر کی نشان دہی نہ کرے تو لازمًا طلبہ میں تاویل وتعطیل یا یوں کہیے کہ اشعریت کے جراثیم پرورش پانے لگیں گے،اور منہج سلف ان کے نزدیک اجنبی ہو کر رہ جائے گا۔

چوتھا دور بارہویں صدی ہجری میں قائم ہوا۔نصاب کے اس حصہ کی بنیاد ملا نظام الدین نے رکھی جو شاہ ولی اللہ دہلوی کے معاصر تھے۔ملا صاحب نے سابقہ نصاب میں جو ترمیمات کیں ان میں ایک ترمیم یہ تھی کہ تفسیر میں مدارک کی جگہ جلالین کو شامل کیا۔

اس بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ تفسیر جلالین بارہویں صدی ہجری سے مسلسل ہندستانی نصاب درس کا حصہ بنی چلی آرہی ہے۔اس وقت جب کہ پندرہویں صدی ہجری کا ایک تہائی حصہ گزر چکا ہے اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: اسلامی علوم وفنون ہندستان میں۔از مولانا سید عبد الحی۔اردو ترجمہ از مولانا ابوالعرفان ندوی،ص: ۹-۲۲)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت