أي قبل ھلاک ہؤلاء۔۔۔ (۱۰۶۵ /۴۳۴)
٭ محمد شاھین کا نسخہ جو شرح الصاوی کے ساتھ ہے اس میں (ہلاک کی جگہ) ''إھلاک'' ہے۔ [1]
{وَالسَّمَاء بَنَیْْنَاہَا بِأَیْدٍ۔۔۔۔۔}
بقوۃ (۱۰۶۵ /۴۳۴)
ملاحظہ ہو تفسیر سورہ مائدہ،آیت نمبر (۶۴) اور اس کا حاشیہ۔
{وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَإِنَّکَ بِأَعْیُنِنَا}
بمرأی منا نراک ونحفظک (۱۰۷۲ /۴۳۷)
٭ ملاحظہ ہو سورہ طہ کی آیت نمبر (۳۹) کی تفسیر اور اس کا حاشیہ۔
{وَمِنَ اللَّیْْلِ فَسَبِّحْہُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ}
۔۔۔۔وفيالثاني: الفجر،وقیل: الصبح (۱۰۷۲ /۴۳۷)
٭ قولہ: الفجر،یعنی فجر کی دورکعت سنت
وقولہ: وقیل الصبح: یعنی فجر کی نماز۔اھ تفسیر خازن (حاشیۃ الجمل)
سورۃ النجم
{وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ۔۔۔۔۔}
اللتین قبلہا (۱۰۷۴ /۴۳۸)
٭ ایک نسخہ میں (اللتین قبلہاکی جگہ) ''للثنتین قبلہا'' ہے،یعنی دو (بتوں) کا تیسرا بت۔یعنی وہ تمام (بت) درجہ میں برابر ہیں،بعض لوگوں نے اس کو درجہ