کے اعتبار سے تیسرا قرار دیا ہے،یعنی تیسرا بت جو پہلے کے دونوں بتوں سے کم درجہ کا ہے،اور قولہ: ''الأخری'' متاخر اور بے حیثیت کے معنی میں ہے،لیکن ابن عادل کا کہنا ہے کہ یہ محل نظر ہے۔ (حاشیۃ الجمل سے اختصار کے ساتھ)
{وَإِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا}
أي عن العلم فیما المطلوب فیہ العلم (۱۰۷۶ /۴۳۸)
٭ اصل نسخہ میں (أي عن العلم،کی جگہ) لاعن العلم درج ہے،شاید وہ ''لایغني'' تھا اور ''یغني'' سا قط ہوگیا،اور تمام نسخوں میں ''لا'' کے حذف کے ساتھ ہے۔
{اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ}
۔۔۔وقد سئلہا فقال اشہدوا،رواہ الشیخان (۱۰۷۹ /۴۴۰)
٭ بخاری (۳۸۶۹) مسلم (۲۸۰۰)
{فَتَوَلَّ عَنْہُمْ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ۔۔۔۔}
وناصب ''یوم'':''یخرجون'' بعد (۱۰۸۰ /۴۴۰)
٭ یعنی وہ ''یخرجون''جو اس آیت کے بعد آرہا ہے،یعنی:یخرجون من الأجداث یوم یدع الداع۔
{تَجْرِیْ بِأَعْیُنِنَا۔۔۔۔}
بمرأی منا،أی محفوظۃ (۱۰۸۱ /۴۴۱)
٭ سورہ طہ کی آیت نمبر (۳۹) کی تفسیر اور اس کا حاشیہ ملاحظہ ہو۔
{أَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ أُوْلَئِکُمْ۔۔۔۔}
المذکورین من قوم نوح إلی فرعون فلم یعذبوا (۱۰۸۴ /۴۴۲)
٭ حاشیۃ الجمل میں ہے: (فلم یعذبوا) عطف علی خبر المنفی