واضح ہے۔ [1]
{لَہُمُ الْبُشْرَی فِیْ الْحَیْاۃِ الدُّنْیَا۔۔}
فسرت فی حدیث۔۔۔؛۔أو تری لہ (۴۴۴ /۱۷۶)
٭ مستدرک حاکم (۳۳۰۲) ۲ /۳۴۰
{فَإِن کُنتَ فِیْ شَکٍّ۔۔}
قال النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم:''لا أشک ولا أسأل'' (۴۵۱ /۱۷۸)
٭ تفسیر طبری: (۱۷۹۰۷،۱۷۹۰۸) سورہ یونس:۹۴
{أَلا إِنَّہُمْ یَثْنُونَ صُدُورَہُمْ۔۔۔۔}
نزل کما رواہ البخاری۔۔۔فیفضی إلی السماء۔ (۴۵۵ /۱۸۰)
٭ بخاری (۴۶۸۲)
{وَقَالَ ارْکَبُواْ فِیْہَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرَاہَا وَمُرْسَاہَا}
بفتح المیمین وضمہما (۴۶۵ /۱۸۳)
٭ دونوں میم کے فتحہ کے بارے میں حاشیۃ الجمل میں کہا ہے کہ یہ تساہل ہے،دونوں میم کو فتحہ کے ساتھ پڑھنا شاذ قراء ت ہے،قراء ت سبعہ میں یا تو دونوں میم کو ضمہ سے پڑھا گیا ہے یا پہلی کو فتحہ اور دوسری کوضمہ سے۔الخ
{فَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا۔۔} (۴۷۴ /۱۸۶)
أی بأن رفعہا جبریل إلی السماء وأسقطہا مقلوبۃإلی الأرض۔
٭ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد چھت کو زمین پر گرانا ہے نہ کہ آسمان تک لے