{یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ۔۔۔۔}
نزلت في مجادلۃ أبي بکر وعمررضی اللّٰه عنہما علی النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم (۱۰۵۱ /۴۲۶)
٭حاشیۃ الجمل اور حاشیۃ الصاوي میں ہے کہ یہاں بہتر یہ تھا کہ (علی النبي کے بجائے) عند النبي کہاجاتا۔
{یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ۔۔۔۔}
في تأمیر الأقرع بن حابس أو القعقاع بن معبد (۱۰۵۱ /۴۲۶)
٭ بخاری (۴۳۶۷،۴۸۴۷)
{یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِن جَاء کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ}
ونزل في الولید بن عقبۃ۔۔ (۱۰۵۲ /۴۲۷)
٭ صحیح یہ ہے کہ اس جگہ ولید بن عقبہ کے نام کی تعیین درست نہیں ہے،بلکہ یہ کوئی اور شخص ہے جس کا نام وارد نہیں ہوا ہے۔ (ص)
سورۃ ق
{وَجَاء تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ۔۔۔۔}
حتی یراہ المنکر لہا۔۔۔۔۔ (۱۰۵۸ /۴۳۰)
٭اسی طرح (یراہ المنکر لہا) ہمارے یہاں بھی ہے،بعض نسخوں میں (یراہا) ہے۔
سورۃ الذاریات
{وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ۔۔۔۔}