ہیں،چنانچہ ارشاد ہے: {وما تنزلت بہ الشیاطین۔وما ینبغی لھم وما یستطیعون۔إنہم عن السمع لمعزولون} اور یہ اچھا قول ہے،اور پہلے ذکر کیے گئے اقوال سے الگ بھی نہیں ہیں،اس کے بعد ابن کثیر نے غیر طاہر کو قرآن چھونے کی ممانعت کی دلیل ذکر کی ہے، (انتہی باختصار) (ص)
{ہُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ۔۔۔۔}
'الظاہر' بالأدلۃعلیہ 'والباطن 'عن إدراک الحواس (۱۱۰۰ /۴۴۹)
٭ ان دونوں اسماء یعنی ظاہر وباطن کی صحیح تفسیر وہی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے چنانچہ آپ کا ارشاد ہے ''أنت الظاہر فلیس فوقک شیٔ،وأنت الباطن فلیس دونک شی {ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ}
الکرسي (۱۱۰۱ /۴۴۹)
٭ عرش کرسی کے علاوہ ہے،ملاحظہ ہو سورہ توبہ کی آیت نمبر (۱۲۹) کی تفسیر اور حاشیہ۔
{یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِہِ۔۔۔۔۔۔}
محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم وعیسی (۱۱۰۷ /۴۵۱)
٭ ہمارے نسخے میں (وعلی عیسی) ہے اور تمام نسخوں میں (علی) کو حذف