اس نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں یہ لکھا ہے کہ اس کی کتاب کا اصل مقصود گولڈ زیہر کے نقطہ نظر کو تقویت دینا اور قانونی وفقہی احادیث کا ماخذ امام شافعی رحمہ اللہ کے زمانے کے بعد ثابت کرنا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں:
شاخت کا خیال ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کا آغاز بنو امیہ ( Umayyad Caliphate; 661-750) کے آخر دور میں ہوا۔ اس کے الفاظ ہیں:
شاخت کا کہنا یہ بھی ہے کہ احادیث کی کتب میں فقہی مسائل سے متعلقہ جو روایات ہمیں ملتی ہیں وہ امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے زمانے کے بعد گھڑی گئیں:
وہ قانونی احادیث کے گھڑے جانے کی تاریخ متعین کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ ۱۵۰تا ۲۵۰ھ کے مابین کا زمانہ ہے: