اگرچہ اس گھڑنے کی ابتدا اس کے بقول دوسری صدی ہجری کے نصف اول میں ہو چکی تھی۔ اس کا کہنا ہے:
شاخت کے نزدیک فقہ اسلامی کی تدوین کے زمانہ میں مختلف مکاتب فکر کی نمائندہ شخصیات کو بے ترتیبی سے جمع کر کے احادیث کی اسناد گھڑی گئیں۔ اس کا کہنا ہے:
احادیث کے وضع کیے جانے کے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت میں مثال بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مسلمان علماء کے ہاں (مالک عن نافع عن عبد اللّٰہ بن عمر) ایک ایسی سند ہے جسے بہت زیادہ مستند سند (Golden Chain) شمار کیا جاتا ہے۔ اِس حد تک تو اُس کی بات درست ہے کہ محدثین نے اس سند کو 'سلسلۃ الذھب' کا نام دیا ہے کہ اس میں امام مالک، امام نافع سے روایت کر رہے ہیں جو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام بھی ہیں۔ اس سلسلہ سند میں امام مالک رحمہ اللہ ، حدیث کی کتاب ''مؤطا امام مالک'' کے مصنف، اور صحابی رسول عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے مابین صرف ایک واسطہ