ہے اور وہ واسطہ بھی ایک جلیل القدر تابعی اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ کا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امام نافع رحمہ اللہ کی وفات تقریبًا ۱۱۷ھ میں ہوئی جبکہ امام مالک رحمہ اللہ کی ۱۷۹ھ میں ہوئی۔ امام نافع رحمہ اللہ کی وفات کے وقت امام مالک رحمہ اللہ ایک لڑکے تھے لہٰذا یہ ممکن نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب ''مؤطا '' میں نافع رحمہ اللہ سے بیان کردہ روایات اتنی چھوٹی عمر میں ان سے لکھی ہوں:
اس کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کی سن پیدائش کے بارے کوئی صحیح روایت ثابت نہیں ہے:
جوزف شاخت اس عالی سند پر جو نقد کر رہا ہے وہ انتہائی سطحی ہے۔اس کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کی سن پیدائش کے بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ علیہ کی سن پیدائش کے بارے میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن صحیح روایت کے مطابق یہ ۹۳ھ ہے، جیسا کہ امام ذہبی 32اور امام زرکلی33 رحمہ اللہ علیہ وغیرہ نے لکھا ہے۔ اس اعتبار سے امام نافع رحمہ اللہ کی وفات کے وقت امام مالک رحمہ اللہ کی عمر تقریبًا ۲۴ سال بنتی ہے اور دونوں ایک ہی شہر مدینہ کے رہنے والے ہیں۔ اگر امام مالکنے ۲۰ سال کی عمر میں بھی ان کی شاگردی اختیار کی ہو تو انہیں چار سال ان کی صحبت نصیب ہوئی۔
امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ''مؤطا'' میں امام نافع رحمہ اللہ سے ۸۰ روایات نقل کی ہیں جو ابن عبد البر رحمہ اللہ علیہ کے شائع شدہ صفحات کے مطابق تقریبًا ۱۵ اوراق بنتے ہیں34۔ امام مالک اور امام نافع ; جب دونوں ایک ہی شہر کے رہنے والے ہیں، تو