فهرس الكتاب
مطابق عبادت فرمایا کرتے تھے۔
سپرنگا کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہمیں یہ یقین کر لینا چاہیے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی غارِ حرا میں زید سے ملاقات ہوئی ہو گی جودین حنیفیت پر تھے۔ انہوں نے ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں ایک خدا کا تصور ڈالا ہو گااور ان کی اس طرف رہنمائی کی ہو گی کہ وہ سابقہ آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کا مطالعہ کریں:
ہمارا جواب یہ ہے کہ اس بات کی کوئی دلیل سپرنگا کے پاس نہیں ہے، اور ہوگی بھی کہاں کہ غار حرا میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زید سے ہوئی اور پھر زید نے آپ کی ایک نئے دین کی طر ف رہنمائی کی ہو گی۔ اسی لیے تو قرآن مجید ان لوگوں کے بارے کہتا ہے:
[ وَمَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ 24] 13
''ان کے پاس ان کے دعویٰ کی کوئی علمی دلیل نہیں ہے، یہ محض اٹکل پچو سے کام چلاتے ہیں۔''
سپرنگا کا کہنا یہ بھی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنا زیادہ تر وقت غار حراء میں گزارتے تھے اور مکہ میں کبھی کبھی آتے تھے ۔ مسلسل مراقبوں کی وجہ سے انہیں شکوک وشبہات نے گھیر لیا اور ایک دن انہوں نے یہ خواب دیکھا کہ ایک فرشتہ انہیں کہہ رہا ہے کہ آپ پڑھیں!