فهرس الكتاب

الصفحة 119 من 165

علاوہ ازیں فال نکالنے کے بارے میں اگلے صفحے پر خود ہی سپرنگا نے وضاحت کر دی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم صرف نیک فال لیتے تھے:

تو جب نیک فال لیتے تھے تو پھر کیا اعتراض باقی رہ گیا؟ سپرنگا قرآن مجید کی آیت { وَوَجَدَكَ ضَاۗلًّا فَهَدٰى C۝۠ } (الضحیٰ: ۷) کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعوائے نبوت سے پہلے بتوں کی عبادت کرتے تھے:

اس کا کہنا ہے کہ چالیس سال کی عمر میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں اپنے آباء واَجداد کے دین بت پرستی کے بارے میں کچھ شکوک وشبہات اور اوہام نے جنم لیا تو مسلمانوں نے اسے وحی کا نزول قرار دے دیا:

ہمارا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ میں کوئی ایسی بات نقل نہیں ہوئی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم معاذ اللہ! بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ اس کی ایک تفسیر جو اہل علم کی ایک جماعت نے کی ہے، یہ ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے رب نے آپ کو گم راہ لوگوں کے مابین پایا یعنی دورِ جاہلیت اور بت پرستی کے زمانے میں پایا اور ہدایت دی۔ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو تلاشِ حق میں سرگرداں پایا اور ہدایت عطا فرمائی۔ آپ نبوت ملنے سے پہلے ملت ابراہیمی اور دین توحید پر تھے، اگرچہ دین ابراہیمی اپنی مکمل صورت میں محفوظ نہیں تھا اور نہ ہی شریعت اسلامیہ کا ابھی تک نزول ہوا تھا۔ پس آپ نبوت سے پہلے تفصیلی ہدایت یعنی شریعت کی تلاش میں سرگرداں تھے اور اس کے لیے غار حرا میں قیام کے دوران دین ابراہیمی کی باقیات کے

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت