فهرس الكتاب

الصفحة 123 من 165

سپرنگا نے قرآن مجید کے حوالہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فکری ارتقاء کے بارے جو تین مراحل بیان کیے ہیں، ان کی کوئی بنیاد قرآن مجید میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اور نہ ہی سپرنگا قرآن مجید کے متن سے اپنے ان مراحل کو ثابت تو کجا پیش بھی کر سکا ہے۔ اس کے ان مراحل کا کل ماخذ اس کا متعصب ذہن ہے۔ سپرنگا کے موقف کے برعکس حقیقت حال یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ اور تورات وانجیل کے باب میں قرآن مجید کا جو موقف مکی سورتوں میں ہے، وہی مدنی سورتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔

اس کا کہنا یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خطائے حس (halucinations) کے عارضہ میں مبتلا تھے اور انہیں اپنے اس عارضہ کا اس شدت سے احساس تھا کہ انہوں نے کئی مرتبہ مایوس ہو کر خودکشی کی بھی کوشش کی۔ اس کے الفاظ ہیں:

ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ سب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مطہرہ پر بہتان ہے اور اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔ جہاں تک خودکشی کے بہتان کا معاملہ ہے تو اس کا پس منظر صرف اتنا ہے کہ پہلی وحی کے نزول کے بعد اللہ کے حکم سے وحی کچھ عرصہ کے لیے رکی رہی اور اسے فترتِ وحی (Intermission of Revelation) کا زمانہ کہتے ہیں۔ وحی کے نزول میں اس عارضی رکاوٹ نے آپ کی طبیعت میں اس قدر اضطراب اور بے چینی پیدا کر دی کہ بعض اوقات آپ یہ سوچتے کہ وحی کے بغیر زندگی کا کیا فائدہ؟ اس سوچ اور

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت