فهرس الكتاب

الصفحة 26 من 165

اس جلد میں اس نے قرآن مجید کے بارے اہل تشیع اور عیسائیوں کا موقف بھی بیان کیا ہے۔تیسری جلد قرآن مجید کی قراء ات (Variant Readings of the Holy Quran) اور رسم ِقرآنی کے بارے اعتراضات پر مشتمل ہے۔اس کے خیال میں رسم ِعثمانی (Uthmanic Orthography) میں بہت سی اغلاط موجود ہیں ۔

خود قرآن مجید اور اس کے خارج میں ایسے صریح دلائل بکثرت موجود ہیں جو نولڈکے اس نظریے کو باطل قرار دیتے ہیں کہ وحی کا باعث اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی انفعالی (Passive) کیفیات تھیں۔ اگر وحی کا مصدر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی ہوتی توجب منافقین نے اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ کی شدید خواہش تھی کہ کسی طرح محبوب ترین اہلیہ کو اس الزام سے فوری طور بری قرار دیں تھی لیکن معاملہ آپ کے ہاتھ میں نہیں تھا، لہٰذا براء ت کی آیات کے نزول میں تقریبًا ایک ماہ لگ گیا اور اس وقت تک کے لیے آپ کو مخالفین کی طرف سے شدید ذہنی اذیت برداشت کرنی پڑی۔ اسی طرح مشرکین مکہ نے جب آپ سے اصحاب کہف،ذو القرنین اور روح کی حقیقت کے بارے سوال کیا تو آپ انہیں بروقت جواب نہ دے پائے جس وجہ سے انہوں نے آپ کی پیغمبرانہ حیثیت کو طعن وتشنیع کا موضوع بنایا۔ اس معاملے میں بھی اگر وحی آپ کے اختیار میں ہوتی تو فورًا جواب سامنے آ جاتا۔ دنیا کے معروف ادب کی تاریخ کا مطالعہ یہ بتلاتا ہے کہ بلاشبہ ایسے مواقع کسی بھی شاعر یا قادرِ کلام کے لیے بہترین شعر یا کلام کہنے کی نسبت سے مناسب ترین شمار ہوتے ہیں۔

اسی طرح حضرت جبرئیل علیہ السلام بعض اوقات آپ کے پاس انسانی شکل میں بھی آتے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت