گولڈ زیہر کا خیال ہے کہ اکثر احادیث پہلی دو صدیوں میں اسلام کی مذہبی، تاریخی اور سماجی ترقی کا نتیجہ ہیں۔ مثلًا وہ یہ کہتا ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے شکار اور جانوروں کی رکھوالی کے علاوہ کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بتلایا گیا کہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ بھی یہی روایت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں لیکن وہ شکار اور رکھوالی کے علاوہ کھیتی کے کتے کو بھی استثناء میں شامل کرتے ہیں تو اس پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ ایک کھیتی کے مالک ہیں۔ اس سے گولڈ زیہر یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ پر یہ الزام عائد کیا کہ چونکہ وہ ایک کھیت کے مالک ہیں لہٰذا انہوں نے اپنی روایت میں اپنے ذاتی فائدے کی خاطر کھیتی کے استثناء کو بھی شامل کر لیا:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے جس قول کو بنیاد بناتے ہوئے گولڈ زیہر نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ پر احادیث وضع کرنے کا الزام لگایا، اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
''عن عمرو بن دینار عن ابن عمر أن رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وسلم أمر بقتل