ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور ان کے گورنر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سرکاری سرپرستی میں احادیث گھڑنے کا رواج اس وقت عام ہوا جب انہوں نے اپنے منبر سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح وثناء کی سرکاری مہم چلائی۔ اس کے الفاظ ہیں:
گولڈ زیہر کے بقول بنو امیہ کے دور میں احادیث گھڑنے کے عمل میں اضافہ ہوا اور یہ کام علماء نے کیا۔ اس کے بقول معاشرے نے جب حکمرانوں کے ظلم وستم کو دیکھا تو علماء نے ان ظالم حکمرانوں کے خلاف احادیث گھڑیں، مثلًا وہ روایات جو ان کے خلاف خروج یا ان سے جہاد کو بیان کرتی ہیں۔ اس کے الفاظ ہیں:
اس کے برعکس حکمران بھی بھولے یا بے وقوف نہیں تھے۔ انہوں نے حکمرانوں کے خلاف خروج کے رد میں احادیث وضع کیں۔ اس طرح ایک سیاسی عمل احادیث کے ایک ذخیرہ کے گھڑنے کا سبب بنا۔ اس کے الفاظ ہیں: