سے کسی ایک کی طرح (بھی) نہیں ہوں۔میں اپنے رب کے پاس (اس طرح) رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن اعمال کی طاقت رکھتے ہو وہی کرو۔
(692) عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ:کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم فِيْ سَفَرٍ؛ وَإِنْ کَانَ أَحَدُنَا لَیَضَعُ یَدَہ، عَلٰی رَأْسِہٖ مِنْ شِدَّۃِ الْحَرِّ، وَمَا مِنَّا صَائِمٌ إِلاَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ۔صحیح [1]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ہم میں سے ہر آدمی گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر اپنے ہاتھ رکھتا تھا۔ہم میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ ہی روزے سے تھے۔
(693) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خَرَجَ إِلٰی مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ فِيْ رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتّٰی بَلَغَ الْکَدِیْدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ مَعَہ،، وَکَانُوْا یَأْخُذُوْنَ بِالْأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔صحیح [2]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح (مکہ) والے سال رمضان میں مکے کی طرف چلے۔آپ نے روزہ رکھا حتیٰ کہ آپ الکدید (نامی مقام) پر پہنچ گئے۔پھر آپ نے روزہ افطار کیا تو لوگوں نے بھی روزہ افطار کیا۔لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تازہ بہ تازہ حکم (اور سنت) پر عمل کرتے تھے۔
(694) عَنْ جَابِرٍ رضی اللّٰہ عنہ:أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خَرَجَ إِلٰی مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ فِيْ رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتّٰی بَلَغَ کُرَاعَ الْغَمِیْمِ فَصَامَ النَّاسُ مَعَہ،، فَقِیْلَ لَــہ،: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَیْھِمُ الصِّیَامُ، فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ یَنْظُرُوْنَ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ، فَبَلَغَہ، أَنَّ نَاسًا صَامُوْا فَقَالَ: (( أُولٰۤئِکَ الْعُصَاۃُ ) )۔ [3]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح والے سال مکے کی طرف رمضان (کے مہینے) میں روانہ ہوئے۔آپ نے روزہ رکھا حتیٰ کہ آپ کراع الغمیم (نامی مقام) تک پہنچ گئے۔لوگ
[2] صحیح، مالک (1/294 وروایۃ أبي مصعب:791) البخاري: 1944 من حدیث مالک مختصرًا ومسلم: 1113 من حدیث ابن شھاب الزھري بہ۔ [السنۃ:1766]
[3] صحیح، الشافعي في مسندہ ص158، مسلم:1114 من حدیث عبدالعزیز بن محمد الدراورد ي بہ۔ [السنۃ:1767]