(بھی) آپ کے ساتھ روزہ رکھے ہوئے تھے۔آپؐ سے کہا گیا: یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگوں پر روزہ رکھنا سخت مشکل ہے تو آپ نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا پھر (اسے) پی لیا اور لوگ دیکھ رہے تھے۔بعض لوگوں نے روزہ افطار کر لیا اور بعض نے افطار نہ کیا۔جب آپ کو یہ خبر پہنچی کہ لوگ روزے سے ہیں تو آپ نے فرمایا: یہ لوگ نافرمان ہیں۔
(695) عَنْ عَائِشَۃَ:أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کَانَ یُقَبِّلُ وَھُوَ صَائِمٌ، وَلٰـکِنْ کَانَ أَمْلَکَکُمْ لِإِرْبِہ [1]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کا) بوسہ لیتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
(696) عَنْ عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجَيِ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَتَا:إِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَیُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَیْرَ احْتِلاَمٍ فِيْ رَمَضَانَ، ثُمَّ یَصُوْمُ ذٰلِکَ الْیَوْم۔صحیح [2]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ اور زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں احتلام کے بغیر، جماع کرنے کے بعد (نہائے بغیر) صبح کرتے تھے پھر اس دن روزہ رکھتے تھے۔
(697) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:احْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَھُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ۔صحیح [3]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی۔
(698) عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ قَالَ:رَأَیْتُ النَّبِيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مَالَا أُحْصِيْ، یَتَسَوَّکُ وَھُوَ صَائِمٌ۔ [4]
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی دفعہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ہے۔
[2] صحیح، مالک (1/289، 290وروایۃ أبي مصعب:779) مسلم:78/1109من حدیث مالک بہ ولہ طریق آخر عندالبخاري:1925، 1926۔ [السنۃ:1751]
[3] ضعیف، علي بن الجعد:2994، أبوداود:2373 والترمذي:777 من حدیث یزید بہ وقال:''حسن صحیح'' وللحدیث شواھد ضعیفۃ۔ [السنۃ:1758]
[4] ضعیف، الترمذي:725، عاصم بن عبیداللّٰه ضعیف کما فی التقریب (3065) ۔ [السنۃ:1757]