فهرس الكتاب

الصفحة 93 من 431

نے ہدایت پائی تو اپنے ہی بھلے کے لیے اور جو گمراہ ہوا، تو بس اس کی گمراہی (کا وبال) اسی پر ہے، اور آپ ان کے ذمے دار نہیں۔'' [1]

امام ابن قیم رحمہ اللہ آیت مبارکہ {وَمَا أرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ} کی آفاقیت پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت کی بابت دو قولوں میں سے صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہ آیت اپنے عموم پر (رحمت عام کی بشارت) ہے۔ اس اعتبار سے اس عموم کی دو صورتیں ہیں:

٭ پہلی صورت: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمۃ للعالمین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی فیض رساں رسالت ونبوت سے سارے جہان والوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

آپ پر ایمان لانے والوں کو اس اعتبار سے زبردست فائدہ ہوا کہ وہ آپ کی اتباع کی بدولت دین و دنیا کی سعادتوں کے مستحق قرار پائے۔

اسی طرح آپ سے برسرِپیکار دشمنوں کو اس لحاظ سے فائدہ پہنچا کہ جو کفار مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے، ان کا جلدی مرجانا ان کے لیے خیر کا باعث ہوا، اس لیے کہ وہ جتنی زیادہ دیر زندہ رہتے، ان کے گناہوں میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جو آخرت میں ان کے لیے عذاب کی شدت میں اضافے ہی کا باعث بنتا۔ پس ان کا بحالتِ کفر لمبی عمر گزارنے کے مقابلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے ساتھیوں کے ہاتھوں مرجانا ان کے حق میں بہتر رہا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت