آداب تعلیم القرآن الکریم
1۔ اخلاص نیت:
کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے اخلاص نیت اولین شرط ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَمَا اُمِرُوْٓا اِِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ} (البینۃ: 5)
امیر المؤمنین سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
(( إنما الأعمال بالنیات، وإنما لکل امریء مانوی۔ ) )
(متفق علیہ)
''تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے، وج اس نے نیت کی۔''
اخلاص کا معنی:… عقیدہ وعمل میں فقط ایک ذات برحق کو سامنے رکھنا۔
اخلاص کی علامت:… مدح وذم کا مساوی ہونا۔
اخلاص کی تعریف:… سیّدنا حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں: