فهرس الكتاب

الصفحة 26 من 135

دوسری فصل:

آداب تعلیم القرآن الکریم

1۔ اخلاص نیت:

کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے اخلاص نیت اولین شرط ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَمَا اُمِرُوْٓا اِِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ} (البینۃ: 5)

امیر المؤمنین سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

(( إنما الأعمال بالنیات، وإنما لکل امریء مانوی۔ ) )

(متفق علیہ)

''تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے، وج اس نے نیت کی۔''

اخلاص کا معنی:… عقیدہ وعمل میں فقط ایک ذات برحق کو سامنے رکھنا۔

اخلاص کی علامت:… مدح وذم کا مساوی ہونا۔

اخلاص کی تعریف:… سیّدنا حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت