فهرس الكتاب

الصفحة 20 من 102

بِحَظِّھَا مِنْھَا مَنْ عَمِلَ ھٰذِہِ الشُّرُوْطَ مِنَ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْي عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْإِیْمَانِ بِاللّٰہِ۔'' [1]

[اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے لیے مقرر کردہ یہ شان و شوکت وہ حاصل کرتا ہے ، جو کہ امر بالمعروف ، نہی عن المنکر اور ایمان باللہ کی شرائط کو پورا کرتا ہے۔]

علامہ شوکانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

'' أَيْ کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ حَالَ کَوْنِکُمْ آمِرِیْنَ نَاھِیْنَ مُوْمِنِیْنَ بِاللّٰہِ ، وَمَا یَجِبُ عَلَیْکُمُ الْاِیْمَانُ مِنْ کِتَابِہِ وَرَسُوْلِہِ وَمَا شَرَعَہُ لِعِبَادِہ۔'' [2]

[تم [نیکی کا ] حکم دینے ، [برائی سے] روکنے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور ان کی کتاب ، ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بندوں کے لیے [نازل کردہ] شریعت پر ، جیسا کہ تم پر فرض کیا گیا ہے ، ایمان لانے کی حالت میں بہترین اُمت ہو۔]

خلاصۂ کلام یہ ہے ، کہ جو شخص اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شامل ہونا چاہے ، اس کے لیے ضروری ہے ، کہ وہ اس میں شامل ہونے کی شرائط کو پورا کرے اور ان میں سے ایک شرط ''امر بالمعروف و نہی عن المنکر'' ہے۔ اور اس شرط کا پورا کرنا سب پر لازم ہے۔

[2] فتح القدیر ۱؍۵۶۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت