فهرس الكتاب

الصفحة 75 من 102

مبحث ششم

تنبیہات

اس مقام پر قارئین کرام کی توجہ درج ذیل تین باتوں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں:

۱۔ عامۃ الناس کا صرف دعوتِ خاصہ دینا

۲۔ عامۃ الناس کا صرف واضح باتوں کی دعوت دینا

۳۔ داعی کا اپنے حدودِ علم میں رہنا

۱۔عامۃ الناس کا صرف دعوتِ خاصہ دینا:

دعوت کی دو اقسام ہیں: ایک قسم [دعوتِ عامہ] اور دوسری قسم [دعوتِ خاصہ] یا [دعوتِ فردیہ] ہے۔ دعوتِ عامہ سے مراد ایسی دعوت ہے ، کہ اس میں لوگوں کی جماعت یا گروہ کو کسی بات کا قائل کرنے کے لیے دعوت دی جائے ، جیسے کہ امام مسجد اپنی مسجد میں ، خطیب اپنے خطبہ میں اور مصنف اپنی کتاب کے ذریعہ عام لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ [1]

دعوت ِ خاصہ یا دعوتِ فردیہ سے مراد ایسی دعوت ہوتی ہے ، کہ اس میں ایک شخص یا چند ایک اشخاص کو کسی بات کا قائل کرنے کی خاطر دعوت دی جاتی ہے۔ [2]

گزشتہ صفحات میں جو بات بیان کی گئی ہے ، کہ دین کی دعوت دینا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ، تو اس کا معنی یہ نہیں کہ ہر کس و ناکس مسجد میں تقریر کے لیے کھڑا ہو جائے، یا وہ منبر پر چڑھ کر خطبہ دینا شروع کر دے، یا وہ دینی مسائل کے متعلق کتابیں

[2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ص ۱۶؛ نیز ملاحظہ ہو: فقہ الدعوۃ الفردیۃ للدکتور علي عبدالحلیم محمود ص ۱۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت