'' أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم لَبِثَ عَشْرَ سِنِیْنَ یَتَّبِعُ الْحَاجَ فِی مَنَازِلِھِمْ فِي الْمَوْسَمِ وَبِمَجَنَّۃَ وَبُعْکَاظٍ ، وَبِمَنَازِلِھِمْ بِمِنَی ، فَلَا یَجِدُ مَنْ یَنْصُرُہُ وَیُؤْوِیْہِ حَتَّی بَعَثَنَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ مِنْ یَثْرَبَ۔ فَیَأْتِیْہِ الرَّجُلُ فَیُؤْمِنُ بِہِ ، فَیُقْرِئُہُ الْقُرآنَ ، فَیَنْقَلِبُ إِلَی أَھْلِہِ ، فَیُسَلِّمُوْنَ بِإِسْلَامِہِ حَتَّی لَمْ یَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ یَثْرَبَ إِلاَّ فِیْھَا رَھْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ یُظْھِرُوْنَ الْإِسْلَامَ۔'' [1]
[بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک حاجیوں [ کو دعوت دینے کی خاطر ان] کے ڈیروں میں موسم حج میں اور مجنہ اور عکاظ کے میلوں میں جاتے رہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بھی ایسا شخص نہ ملا ، جو آپ کی نصرت کرے اور آپ کو پناہ دے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجنا شروع کیا۔ [ہم سے ] کوئی ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پہنچ کر آپ کے ساتھ ایمان لاتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو قرآن پڑھا دیتے ۔ پھر وہ اپنے کنبہ کی طرف پلٹتا ، تو وہ اس کے اسلام کی بدولت مسلمان ہو جاتے، یہاں تک کہ یثرب میں ایک گھر بھی ایسا نہ رہا، جس میں اسلام ظاہر کرنے والے افراد نہ ہوں ۔]
اللہ کریم کے فضل و کرم سے حضرت مصعب بن عمیر کے دست مبارک پر حضرت