فهرس الكتاب

الصفحة 71 من 102

مبحث پنجم

دعوتِ دین کی ذمہ داری کے متعلق اقوالِ علماء

ذیل میں اس سلسلے میں بعض علمائے اُمت کے اقوال توفیق الٰہی سے پیش کیے جارہے ہیں:

۱۔امام ابن قیم کا قول:

امام ابن قیم کی رائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے ہر شخص پر لازم ہے ، کہ وہ اسی چیز کی طرف دعوت دے ، جس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دی تھی۔ [1] انہوں نے آیت شریفہ: {قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِيْٓ أَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ} [2] کی تفسیر میں تحریر کیا ہے:

''فراء اور [ علماء کے ایک] گروہ نے بیان کیا ہے: '' (وَمَنِ اتَّبَعِنِيْ) [اور جس شخص نے میری اتباع کی] کا (أَدْعُوْٓا) [میں دعوت دیتا ہوں ] میں موجود ضمیر پر عطف ہے۔ اور معنی یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور جس نے میری اتباع کی ہے ، وہ بھی میری طرح دعوت دیتا ہے، اور یہی کلبی کا قول ہے ۔ [3] انہوں نے کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے ہر شخص پر لازم ہے ، کہ وہ اس چیز کی طرف بلائے، جس کی

[2] سورۃ یوسف۔علیہ السلام۔؍ جزء من الآیۃ ۱۰۸۔ [ترجمہ: کہہ دیجیے یہ میری راہ ہے ۔ میں اور میری اتباع کرنے والے پوری بصیرت پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔]

[3] ملاحظہ ہو: کتاب التسہیل لعلوم التنزیل للحافظ الغرناطي الکلبي ۲؍۲۳۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت