فهرس الكتاب

الصفحة 42 من 102

پہنچا دیا… الخ [1]

ب: مبلغ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط نہیں لگائی، کہ وہ فقیہ ہو۔ شرط صرف یہ رکھی ہے ، کہ وہ جو بات پہنچا رہا ہے ، وہ اس کو یاد ہو۔ علامہ مناوی نے شرح حدیث میں تحریر کیا ہے:

'' بَیَّنَ بِہِ أَنَّ رَاوِيَ الْحَدِیْثِ لَیْسَ الْفَقْہُ مِنْ شَرْطِہِ ، وَإِنَّمَا شَرْطُہُ الْحِفْظُ ، أَمَّا الْفَھْمُ وَالتَدَبُّرُ فَعَلَی الْفَقِیْہِ، وَھٰذَا أَقْوَی دَلِیْلٍ عَلَی رَدِّ قَوْلِ مَنْ شَرَطَ لِقَبُوْلِ الرِّوَایَۃِ کَوْنَ الرَّاوِيْ فَقِیْھًا عَالِمًا۔'' [2]

[آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادِ گرامی کے ذریعہ اس بات کو واضح کر دیا ہے ، کہ راوی حدیث کے لیے فقیہ ہونا شرط نہیں ۔ شرط صرف یہ ہے ، کہ اس کو [متعلقہ] حدیث یادہو۔ فہم و تدبر کی ذمہ داری فقیہ پر ہے اور اس میں ان لوگوں کی شدید ترین تردید ہے ، جو راوی کے فقیہ ہونے کی شرط عائد کرتے ہیں ۔]

۲۔ ہدایت و خیر کی کسی بھی بات بتلانے والے کے لیے عمل کرنے والے کے برابر اجر:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت و خیر کی کسی بھی بات کے بتلانے والے کے لیے عمل کرنے والے کے برابر اجر و ثواب پانے کی خبر دے کر ہر مسلمان مرد و عورت کو دعوت

[2] فیض القدیر ۶؍۲۸۴۔۲۸۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت