الصَالِحَاتِ، ثُمَّ لَمْ یَدَعْھُمْ وَذَاکَ حَتَّی قَالَ: {وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ} ، ثُمَّ لَمْ یَدَعْھُمْ وَذَاکَ حَتَّی قَالَ: {وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ} شُرُوْطًا یَشْتَرِطُ عَلَیْھِمْ۔'' [1]
[ (وَالْعَصْرِ) ہمارے رب تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے (إِنَّ الإِنْسَانَ لفيْ خُسْرٍ) انہوں نے فرمایا: تمام بنی نوع انسان [خسارے میں ہیں ] ، پھر استثنا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ( إِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) [2] ، پھر بات کو یہیں ختم نہ کیا، یہاں تک کہ فرمایا: (وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ) [3] ، پھر بات کو یہیں ختم نہیں کیا ، بلکہ فرمایا: (وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ) [4] ، پھر بات کو اسی مقام پر نہیں چھوڑا ، بلکہ مزید فرمایا: (وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ) [5] اور یہ [چاروں ] شرطیں [خسارے سے بچاؤ کے لیے] ان پر مقرر کی ہیں ۔] [6]
علامہ رازی اس سورت کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
'' فِیْھَا وَعِیْدٌ شَدِیْدٌ ،وَذٰلِکَ لِأَنَّ اللّٰہَ حَکَمَ بِالْخَسَارِ عَلیٰ جَمِیْعِ النَّاسِ إِلاَّ مَنْ کَانَ آتِیًا بِھٰذہِ الأَشْیَائِ الْأَرْبَعَۃِ وَھِيَ الْإِیْمَانُ،وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ،وَالتَّوَاصِي بِالْحَقِّ،وَالتَّوَاصِيْ بِالصَّبْرِ ، فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلیٰ أَنَّ النََّجَاۃَ مُعَلَّقَۃٌ بِمَجْمُوْعِ ھٰذِہِ الْأُمُوْرِ،وَأَنَّہُ یَلْزَمُ الْمُکَلَّفَ تَحْصِیْلُ مَا یَخُصُّ نَفْسَہُ،وَکَذٰلِکَ
[2] ترجمہ: سوائے ان لوگوں کے ، جو ایمان لائے۔
[3] ترجمہ: اور نیک اعمال کیے۔
[4] ترجمہ: اور آپس میں حق کی وصیت کی۔
[5] ترجمہ: اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔
[6] ملاحظہ ہو: تفسیر القرآن للإمام عبدالرزاق الصنعاني ۲؍۳۹۴۔