فهرس الكتاب

الصفحة 27 من 102

[کیا تمہیں معلوم ہے ، کہ یہ کون سا دن ہے؟]

یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''أَلاَھَلْ بَلَّغْتُ؟''

[کیا میں نے [ پیغام الٰہی ] پہنچا دیا ہے؟ ]

انہوں نے عرض کیا: ''نَعَمْ''

''جی ہاں !''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' اَللّٰھُمَّ أَشْھَدْ۔ فَلْیُبَلِّغْ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعٰی مِنْ سَامِعٍ۔'' [1]

[اے اللہ! گواہ ہو جائیے [یہاں ] موجود ہر ایک شخص غیر حاضر کو پہنچا دے۔ کتنے لوگ [ ایسے ہیں ] ، کہ جن تک بات پہنچائی جاتی ہے، [خود] سننے والوں سے زیادہ سمجھنے و الے ہوتے ہیں ۔]

حجۃ الوداع میں انسانوں کی ایک بڑی تعداد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا۔ [2] وہ سارے تو علماء نہ تھے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو بلا تمیز ،

دوسرے لوگوں تک سنی ہوئی بات پہنچانے کا حکم دیا۔ ایک دوسری روایت میں ہے ، کہ اس خطبہ کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

[2] ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم، رقم الحدیث ۱۴۷ (۱۲۱۸) ، ۲؍۸۸۷۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے: سوار یا پیدل آنے کی استطاعت رکھنے والا ہر شخص حج میں شرکت کی غرض سے پہنچ گیا۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن النسائي ، کتاب مناسک الحج، باب إھلال النفساء ۲؍۵۸۳) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت