فهرس الكتاب

الصفحة 34 من 102

فرمایا۔ اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ، کہ وہ ان باتوں کو یاد کر لیں اور ان لوگوں کو ان کی خبر دیں ، جو ان کے پیچھے ہیں ۔ [یعنی ان کے ہمراہ نہیں آسکے] امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا:

''إِنَّ وَفْدَ عَبْدِالْقَیْسِ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالُوْا:'' یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّا لَا نَسْتَطِیعُ أَنْ نَأْتِیَکَ إِلَّا فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ، وَبَیْنَنَا وَبَیْنَکَ ھٰذَ الْحَيُّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِہٖ مَنْ وَرَائَ نَا ، وَنَدْخُلْ بِہِ الْجَنَّۃَ۔''

فَأَمَرَھُمْ بِأَرْبَعٍ،وَنَھَاھُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، وَقَالَ: ''احْفَظُوْھُنَّ وَأَخْبِرُوْبِھُنَّ مَنْ وَرَائَ کُمْ۔'' [1]

[جب عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو انہوں نے عرض کیا: ''اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں [ ان] حرمت والے مہینوں کے سوا حاضر نہیں ہو سکتے ، کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کا کافر قبیلہ آباد ہے۔ آپ ہمیں کوئی ایسی واضح اورٹھوس بات بتلا دیجیے ، کہ ہم اس کی خبر اپنے پیچھے رہنے والوں کو دیں اور خود اس کے ساتھ [2] جنت میں داخل ہو جائیں ۔]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا، اور چار چیزوں سے روک دیا۔ اور فرمایا: ''ان باتوں کو یاد کر لو اور تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں ، انہیں [ بھی] ان کی خبر

[2] یعنی اس پر عمل کر کے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت