فهرس الكتاب

الصفحة 49 من 102

کی قسم! اگر ہم مردوں ایسی استطاعت رکھتیں ، تو ضرور ان کی پیروی اور ان کا دفاع کرتیں ۔]

طلیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

'' فَمَا یَمْنَعُکَ یَا أُمِّيْ! مِنْ أَنْ تُسْلِمِيْ وَتَتَّبِعِیْہِ ، فَقَدْ أَسْلَمَ أَخُوْکَ حَمْزَۃُ رضی اللّٰه عنہ ؟ ''

[اے اماں [جی] ! آپ کے بھائی حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام کے بعد آپ کے قبولِ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری اختیار کرنے میں کون سی رکاوٹ حائل ہے؟]

انہوں نے کہا:

'' أَنْظُرُ مَا یَصْنَعُ أَخَوَاتِي ، ثُمَّ أَکُوْنُ إِحْدَاھُنَّ۔''

[میں دیکھوں گی، کہ میری بہنیں کیا طرزِ عمل اختیار کرتی ہیں ، پھر میں بھی وہی کروں گی۔]

طلیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

'' فَإِنِيْ أَسْأَلُکِ بِاللّٰہِ إِلاَّ أَتَیْتِہِ فَسَلَّمْتِ عَلَیْہِ،وَصَدَّقْتِہِ، وَشَھِدْتِّ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلي اللّٰه عليه وسلم رَسُوْلُ اللّٰہُ۔'' [1]

[میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر آپ سے سوال کرتا ہوں ، کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جائیے، انہیں سلام عرض کیجیے ، ان کی تصدیق کیجیے اور اس بات کی گواہی دیجیے ، کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ نہیں اور بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔]

حافظ ابن عبدالبر نے تحریر کیا ہے ، کہ ان کی والدہ محترمہ نے کہا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت