فهرس الكتاب

الصفحة 52 من 102

بلانے والے کی دعوت قبول نہ کرے گا ، تو وہ زمین میں [ کہیں بھاگ کر] اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتا اور ان کے سوا کوئی اور اس کے مدد گار نہ ہوں گے۔ وہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں ۔]

ان آیاتِ شریفہ سے یہ بات واضح ہے ، کہ جنات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت سننے پر ایمان لانے کے فورًا ہی بعد اپنی قوم کو ڈرانے والے اور دعوتِ ایمان دینے والے بن کر پلٹے۔ علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:

''فَلَمَّا تَلَا عَلَیْھِمُ الْقُرآنَ وَفَرَغَ ، انْصَرَفُوْا بِأَمْرِہِ قَاصِدِیْنَ مَنْ وَرَائَ ھُمْ مِنْ قَوْمِھِمْ مِنَ الْجِنِّ ، مُنَفِّرِیْنَ لَھُمْ مُخَالَفَۃَ الْقُرآنِ ، وَمُحَذَّرِیْنَ إِیَّاھُمْ بَأْسَ اللّٰہِ إِنْ لَمْ یُوْمِنُوْا۔'' [1]

[جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے روبرو تلاوت قرآن کریم سے فارغ ہوئے، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو لے کر اپنی قوم جنات کی طرف لوٹے، تاکہ انہیں قرآن کی مخالفت سے روکیں اور ایمان نہ لانے کی صورت میں عذابِ الٰہی سے ڈرائیں ۔]

علامہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے (دَاعِيَ اللّٰہِ) کی تفسیر میں لکھا ہے ، کہ اس سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ [2]

حافظ ابن کثیر {وَمَنْ لاَّ یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْأَرْضِ وَلَیْسَ لَہٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَولِیَآئُ أُوْلٰٓئِکَ فِيْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍِ} [3] کی تفسیر میں تحریر کرتے

[2] ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۱۵؍۲۱۶ ؛ نیز دیکھیے: تفسیر القاسمي۱۵؍۲۱۶؟

[3] [ترجمہ: اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کرے گا، تو وہ زمین میں [کہیں بھاگ کر] اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتا اور ان کے سوا کوئی اور اس کے مدد گار نہ ہوں گے۔ وہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں ۔]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت